داخلے

جامعہ کا تعلیمی سال عید الفطر کےبعدآٹھویں روز یعنی آٹھ شوال سے شروع ہوتا ہے اور اسی تاریخ سے نئے داخلے بھی شروع ہو جاتے ہیں۔ جامعہ فریدیہ میں داخلے کے لئے ہر سال ہزاروں امیدواررجوع کرتے ہیں، لیکن درسگاہوں اور ہوسٹلز میں گنجائش کم ہونے کے باعث صرف معیار کی بنیاد پر زبانی و تحریری ٹیسٹ کے بعد بقدرگنجائش طلباءکو داخلہ دیا جا تا ہے ۔جبکہ باقی امیدوار وں سے انتہائی افسوس کے ساتھ معذرت کر دی جاتی ہے ۔اگر جامعہ میں جدید اور وسیع درس گاہیں اور مزید کشادہ ہوسٹلز تعمیر ہو جائیں تو کافی زیادہ طلباءکے داخلہ کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔

 

شرائط داخلہ برائے شعبہ حفظ:

۱۔       طالب علم کی عمر آٹھ سے بارہ سال تک ہو اس سے بڑے کسی بھی طالب علم کو داخلہ نہیں دیا جاتا۔

۲۔      ناظرہ قرآن اچھی طرح پڑھ سکتا ہو۔

۳۔      پرائمری پاس ہو یا پرائمری کی سطح کی استعداد کا حامل ہو۔

 

 

شرائط داخلہ برائے درجات متوسطہ و ابتدائیہ:

۱۔       پانچویں جماعت میں داخلہ کے امیدوار کا چوتھی جماعت پاس ہونا یا اس کے مساوی اھلیت کا حامل ہونا ضروری ہے۔ اور امیدوار کی عمر 14 سال سے زائد نہ ہو۔(حافظ قرآن قابل ترجیح ہے)

۲۔      چھٹی جماعت میں داخلہ کے امیدوار کا پانچویں جماعت پاس ہونا یا اس کے مساوی اھلیت کا حامل ہونا ضروری ہے، امیدوار کی عمر 15 سال سے زائد نہ ہو۔

۳۔      عمر کے ثبوت کے لئے ”ب“ فارم یا سکول مدرسہ کا سرٹیفکیٹ تصدیق مہیا کی جانی ضروری ہے۔

٭       ان درجات میں داخلہ کے لئے ناظرہ، حفظ کے علاوہ اردو، ریاضی اور انگریزی کا تحریری امتحان ہوتا ہے اور ہر ایک مضمون میں کامیابی ضروری ہوتی ہے۔

٭       حفاظ طلباءکرام کے لئے منزل کا یاد ہونا ضروری ہے۔ نا پختہ قرآن شریف والے امیدوار کو داخلہ نہیں دیا جاتا۔

 

شرائط داخلہ برائے درس نظامی:

۱۔       درجہ اولیٰ میں داخلہ کے لئے میٹرک یا متوسطہ سوم اچھے نمبروں میں پاس ہو۔

۲۔      غیر حافظ ہونے کی صورت میں ناظرہ قرآن صحیح پڑھ سکتا ہو۔ اور حافظ ہونے کی صورت میں قرآن مجید پختہ یاد ہو۔

۳۔      صحیح تحریر اور اور املاءلکھ سکتا ہو۔

۴۔      جامعہ کے تحریری ٹیسٹ اور جائزے میں پاس ہو۔

۵۔      طالبعلم کے پاس اپنی یا اپنے والد کے شناختی کارڈ کی نقل موجود ہو۔

۶۔      میٹرک یا متوسطہ کی اصل سند یا مصدقہ فوٹو کاپی اس کے پاس موجود ہو۔

۷۔      درجہ ثانیہ سے تخصص تک کے درجات کے داخلے کے لئے پچھلے درجہ کی معیاری اور متعینہ کتب کے تقریری اور تحریری امتحان کو پاس کرنا اور پھر جائزے میں کامیاب ہونا ضروری ہے۔

۸۔      درس نظامی کے کسی بھی درجہ میں داخلہ تحتانی اسناد کے بغیر نہیں دیا جاتا۔

 

درس نظامی میں کے داخلہ امتحان کے لیے متعینہ کتب:

برائے درجہ اولیٰ :

٭        درجہ اولیٰ کے لئے طالب علم میٹرک یا متوسطہ اچھے نمبروں میں پاس ہو اور اس کے پاس اسناد موجود ہوں، ناظرہ قرآن پڑھ سکتا ہو، صحیح تحریر اور املاءلکھ سکتا ہو اور وہ تحریری ٹیسٹ میں پاس ہو جائے

برائے درجہ ثانیہ:

٭       درجہ ثانیہ کے لئے (۱) ارشاد الصرف یا قانونچہ وغیرہ (۲) نحومیر (۳) شرح مائة عامل کا امتحان لیا جاتا ہے

برائے درجہ ثالثہ:

٭       درجہ ثالثہ کے لئے (۱) ہدایة النحو۔ (۲) قدوری (۳) ترجمہ پارہ عم مع تراکیب کا امتحان لیا جاتا ہے

برائے درجہ رابعہ:

٭       درجہ رابعہ کے لئے (۱) کافیہ (۲) کنز الدقائق (۳) اصول الشاشی (۴) ترجمہ قرآن آخری دس پارے۔

برائے درجہ خامسہ:

٭       درجہ خامسہ کے لئے (۱) شرح جامی (۲) نور الانوار (۳) شرح وقایہ کا امتحان لیا جاتا ہے

برائے درجہ سادسہ:

٭       درجہ سادسہ کے لئے (۱) ہدایہ اوّل(۲) مختصر المعانی (۳) حسامی کا امتحان لیا جاتا ہے

برائے درجہ سابعہ :

٭       درجہ سابعہ کے لئے (۱) ہدایہ ثانی (۲) توضیح تلویح (۳) جلالین کا امتحان لیا جاتا ہے

برائے درجہ ثامنہ :

٭       درجہ ثامنہ کے لئے (۱) مشکوة کامل (۲) ہدایہ ثالث (۳) بیضاوی کا امتحان لیا جاتا ہے

برائے درجہ تخصص فی الافتاء :

٭       درجہ تخصص فی الفقہ کے لئے (۱) ترجمہ قرآن کریم (۲) مشکوٰة کامل (۳) ہدایہ ثالث (۴) نور الانوار (۵) سراجی (۶) نخبة الفکر (۷) شرح عقائد (۸) مختصر المعانی کا امتحان لیا جاتا ہے

نوٹ:

    واضح رہے کہ تمام درجات عربیہ ، متوسطہ اور ابتدائیہ میں داخل ہونے والے ہر طالب علم کے لئے ضروری ہے کہ اسے ناظرہ قرآن صحیح طرح پڑھنا آتا ہو اور اس کو لکھنا پڑھنا بھی آتا ہو، اگر کسی طالب علم کو لکھنا پڑھنا نہیں آتا یا وہ قرآن نہیں پڑھ سکتا تو ایسے طالب علم کو داخلہ نہیں دیا جاتا۔ اگر لکھائی کمزور ہو یا ناظرہ کمزور ہو لحن خفی کی غلطیاں ہوں تو اس کے داخلے پر غور کیا جاسکتا ہے۔

۰۲۔     درجات عربیہ میں داخلے کے لئے ضروری ہے کہ طالب علم سابقہ درجہ کی تمام کتب پڑھا ہوا ہو البتہ امتحان پچھلے درجہ کی متعین کتب کا لیا جاتا ہے اور ان سب متعینہ کتب میں طالب علم کا پاس ہونا ضروری ہوتا ہے۔

۱۲۔     امتحانی داخلے میں اصل مدار طالب علم کی علمی استعداد اور اس کے ذوق و شوق پرہے، اگر کسی طالب علم کی علمی استعداد اچھی ہے اور پڑھنے کا ذوق و شوق رکھتا ہے تو اس کوداخلے کا مستحق سمجھا جاتا ہے۔

Home | About Us | Departments | Contact Us | Media | Downloads
© All Rights Reserved. Privacy Policy. Site Map.