جامعہ فریدیہ: ابتداء و ارتقاء

          عالم باعمل،شہیداسلام حضرت مولانا محمد عبداللہ شہیدؒ نے حاجی اختر حسن مرحوم و دیگر مخلص دوستوں کے ساتھ 1966ء میں مرکزی جامع مسجد (لال مسجد)اسلام آباد میں حفظ کے ایک چھوٹے سے مدرسہ کی بنیاد رکھی، جس میں تقریباً بیس پچیس کی تعداد میں حفظ کے طلباءتھے۔ کچھ عرصہ کے بعد سیکٹر ایف سکس فور میں ایک کوارٹر ملنے پر مدرسہ کو وہاں منتقل کیا گیا اور وہاں کتب کے ابتدائی شعبہ جات بھی قائم کر دئیے گئے۔ اور وہاں اس کا سنگ بنیاد محدث العصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ نے رکھا ۔اور حضرتؒ کی ہی تجویز سے اس مدرسہ کا نام "مدرسہ عربیہ اسلامیہ" رکھا گیا۔کچھ عرصہ بعد ضرورت محسوس ہوئی کہ مدرسہ کے لئے کسی کھلی جگہ پرجامعہ کے تعلیمی و تعمیری شعبہ جات کو توسیع دی جائے تا کہ دین کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے آنے والے طلباءکی زیادہ سے زیادہ تعداد کو مدرسہ میں داخلہ دیا جاسکے۔ چنانچہ اسلام آباد کے سیکٹر ای سیون (Sector E-7) کے علاقے اور ماگلہ کی خوبصورت پہاڑیوں کے دامن میں ایک قدیم گاؤں "ڈھوک جیون" کی مسجد (طوبیٰ)سے متصل ایک صاحب کی وقف کردہ زمین پر جناب سیٹھ ہارون جعفر صاحب مرحوم کے بھر پور تعاون سے جدید مدرسہ کی تعمیر شروع کی گئی اور 1984ء میں مدرسہ کو موجودہ عمارت میں منتقل کر دیا گیا اور مدرسہ کا نیا نام ”جامعۃ العلوم الاسلامیۃ الفریدیۃ “ طے ہوا۔ اس وقت تک جامعہ میں طلباءکی تعداد کم و بیش 125تک پہنچ گئی تھی۔ 1966ء میں مرکزی جامع مسجد میں شہیدِ اسلام حضرت مولانا محمد عبداللہ شہیدؒ کا خلوص سے لگایا ہوا پودا آج مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں تنا آور درخت اور ایک عظیم دینی یونیورسٹی کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس میں اس وقت 1100سے زائد طلباءقرآن کریم اور دیگر دینی علوم حاصل کر رہے ہیں۔

Home | About Us | Departments | Contact Us | Media | Downloads
© All Rights Reserved. Privacy Policy. Site Map.